اترا ہے قطرہ قطرہ وہ غم درد اداس کے
Poet: rabia naz By: rabia naz, karachiاترا ہے قطرہ قطرہ وہ غم درد اداس کے
بارش کی بوند بوند سے لپٹی تھی پیاس کے
کہتے ہو تم کہ ہنسنے لگے گل بہار میں
لیکن فضا چمن کی ہے اب بھی حواس کے
سجدوں کا مجھ کو چاہے ملے نہ کوئی صلہ
تیرے ہی سامنے میں جھکاؤگی خاص کے
ہر شخص دے رہا ہے کھلا اور چھپا فریب
کس کا یقین کیجیے ، پھر آس پاس کے
آئے ہو مال لے کے خریدو گے کیا مجھے
بک جاؤں میں مفاد کی خاطر لباس کے
اک حرف ناتواں ہے کہیں بھی تو ناز سے
اپنا کہیں تو کیسے ،تمھیں کیوں یہ راس کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






