اتر وہ آیا ہے دل کے نگار خانے میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااتر وہ آیا ہے دل کے نگار خانے میں
مگر ہے پردہ مری آنکھ کے گھرانے میں
کبھی کسی کا تجسس کبھی خود اپنی تلاش
یہی تو چلتا ہے یاں پہ سفر سہانے میں
دعا کروں نہ کروں سوچ میری ہے کہ تجھے
ملیں وفائیں ہر اک گام پر زمانے میں
وہ میرے دل کے اندھیروں کا درد کیا جانے
اسے خوشی ہے مرا آشیاں جلانے میں
میں جس کے ہجر میں بھٹکی ہوئی ہوں مدت سے
عدو کو شوق ہے نقشِ قدم مٹانے میں
تمہارے نام کا چرچا تھا جا بجا دل پر
ہمارے نام کا خدشہ رہا فسانے میں
مرے لبوں پہ تبسم نہیں ہے اے وشمہ
اسے بھی آج ہی مشکل ہے مسکرانے میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






