اتنے تو ہم اَداس نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreجتنے اَداس نظر آتے ہیں اتنے تو ہم اَداس نہیں
جتنے خوشباش نظر آتے ہیں اتنے خوشباش نہیں
اپنی اداسی دوسروں سے چھپانے کے لئے کبھی کبھی
چہرے تو کیا آنکھوں سے بھی اداسی چھپانا پڑتی ہے
میرا چہرہ اَداس ہے تو نہ سمجھیں دل اداس ہے
کہ اس اداسی میں بھی چھَپا ایک راز ہے
دِل سے پھَوٹنے والی خوشی سے لبوں پہ کھِلتی مَسکراہٹ کی چمک
دوسروں سے تو کیا کبھی کبھی اپنے آپ سے بھی چھَپانا پڑتی ہے
خوشی سے چہرے پہ جھلکتی مَسکراہٹ میں بھی ایک راز ہے
اَداس سمجھ کے میری اَداسی کا سبب نہ پوچھو اے میرے ہمنوا
مَسکراتا دیکھ کے مَسکرانے کا سبب نہ پوچھو اے میرے ہمنوا
کیونکہ بعض اوقات جو نظر کو دِکھائی دیتا ہے
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے
کبھی کبھی آنسوؤں میں پِنہاں خوشی کی چمک ہوتی ہے
کبھی کبھی مَسکراہٹ میں نِہاں اَداسی کی رمق ہوتی ہے
یہ سچ ہے کہ کبھی آنسوؤں کو اداسی
اور کبھی خوشی کو مَسکراہٹ راس نہیں
جتنے اَداس نظر آتے ہیں اتنے تو ہم اَداس نہیں
جتنے خوشباش نظر آتے ہیں اتنے ہم خوشباش نہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






