اجازت دے دو
Poet: shaz By: shaz, karachiمجھ سے کچھ کہو یاں مجھ کو کچھ کہنے کی اجازت دے دو
میرا سہارا لے لو یاں مجھ کو سہارا دینے کی اجازت دے دو
تنہا تھا تو اچھا تھا دل کبھی نہ رویا تھا
مجھ سے دل لے لو یاں اپنا دل چرانے کی اجازت دے دو
بہت ہی دلکش ہے تیرے پیار کا انداز
بھلانا جو فقط تو مجھ کو مرنے کی اجازت دے دو
کھلی رہتی ہیں آنکھیں نیند غفلت میں میری
میرے خوابوں میں آجاو یاں اپنے خوابوں میں آنے کی اجازت دے دو
چھپ جاتا ہے نہ جانے چاند کیوں تم کو دیکھ کر شاز
رخ سے پردہ ہٹا لو یاںمجھ کو ہٹانے کی اجازت دے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






