اجاڑ دے میرے دل کی دنیا
Poet: Shakri By: Muhammad Bashir Shakri, Lahoreاجاڑ دے میرے دل کی دنیا سکون میرا تباہ کردے
مگر یہ اک التجا ہے میری اِدھر بھی اپنی نگاہ کردے
یہ پردہ داری ہے یا تماشا ہمیں میں رہ کر ہمیں سے پردہ
تباہ کرنا اگر ہے مجھ کو نقاب اٹھا کر تباہ کر دے
سہانی راتوں کی چاندنی میں کبھی نہ تم بے نقاب ہونا
میں دل پہ قابو تو رکھ سکوں گا نگاہ شاید گناہ کردے
تمہیں خبر ہو کہ نہ ہو شاید تمہاری آنکھوں میں وہ ہے
جو تیغ و خنجر نہ کر سکے ہیں وہ کام تیری نگاہ کر دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







