اجنبی
Poet: NADEEM MURAD By: NADEEM MURAD, umtataاجنبی اجنبی اجنبی اجنبی
اجنبی دیس میں ایک میں اجنبی
اجنبی لوگ سب میرے چاروں طرف
دوستی کے سبھی سلسلے اجنبی
اجنبی الفتیں اجنبی چاہتیں
اپنے ہی گھر کی چھت اجنبی اجنبی
کھڑکیاں اجنبی بام و در اجنبی
بدلیاں اجنبی بارشیں اجنبی
پہلی بوندوں سے مٹی مہکتی تو ہے
آہ ! مٹی کی مہکار بھی اجبنی
موسموں کے سبھی ماہ و سال اجنبی
گرمیاں اجبنی سردیاں اجنبی
اور بہاروں کی ٹھنڈی ہوا اجنبی
اور پت جھڑ کی ویرانیاں اجنبی
خار و گل سبھی رونقیں اجنبی
اور پرندوں کی گل کاریاں اجنبی
چاندنی رات ہو کہ گرہن اجنبی
ٹمٹماہٹ بھی تاروں کی ہے اجنبی
اجنبی دُھول ہے اجنبی اوس ہے
اجنبی ہے نسیم و شمیم ِسحر
اور حد تو ہے یہ عشق ہے اجنبی
عشق کیا گرمئی عشق ہےاجنبی
اور رقابت کا خوف و خطر اجنبی
مہ جبینوں کے ناز و ادا اجنبی
اجنبی پیرہن ، رنگ اور خوشبوئیں
اجنبی ان کی زلفوں کی ہیں بندشیں
وصل کی رونقیں ہجر کی دھڑکنیں
تلخ تنہائیاں ، رنگ برنگ محفِلیں
بھیڑ بازار کی ، گھر کی ویرانیاں
شور دن کا و سنّاٹا رات کا
میکدہ اور پیرِمغاں اجنبی
جام و مینا و ساقی و مے اجنبی
چارہ گر اجنبی اور عدو اجنبی
ناخدا اجنبی ہم سفر اجنبی
آپ اپنا ہی سایا لگے اجنبی
ہاتھ سے دوسرا ہاتھ ہے اجنبی
اے خدا ایک بس تو یہاں ہے مرا
ہم نفس تُو مرا ہم نشِیں تُو مرا
مہرباں تُو مراچارہ گر تُو مرا
اجنبی دیس میں تُو سہارا مرا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






