اجنبی
Poet: Atif Rashid By: Atif Rashid, Islamabadاجنبی سے ہو گئے اجنبی سے ملنے کے بعد
کچھ خبر نہیں کون ہیں کچھ نہیں ہم کو یاد
پہلے زندگی میں ایسا حال ہوا نہ کبھی
پہلے بھی ہنستے مسکراتے رہتے تھے شاد
برسوں سے سونا تھا یہ دل آشیانہ ہمارا
اک ہی ملاقات میں کر گیا وہ اسے آباد
دوبارہ ملنے کی چاہت نے بے تاب کر دیا
گزرتا نہں اب لمحہ کر کر خدا سے فریاد
عمر بھر کی قید لکھ گیانصیب میں ہمارے
وہ عجب شخص تھا جو پھرتا ہے اب بھی آزاد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






