احساس جرم سا لگتا ہے محبت کرنا
Poet: sehrish By: sehrish zahid, narang mandiاحساس جرم سا لگتا ہے محبت کرنا
کتنا مشکل ہے تمہاری چاہت کرنا
ہاتھوں میں تھام کر ہاتھ تمہارا
کتنا مشکل ہے کسی کی امانت کرنا
جب ملوں تو نظر جھکا کر ملنا
کتنا مشکل ہے خود سے بغاوت کرنا
آرزو ہے تمہیں بھول جاؤں لیکن
کتنا مشکل ہے خود پر عنایت کرنا
تم با وفا ہو دنیا کہتی ہے لیکن
کتنا مشکل ہے مجھ سے روایت کرنا
اے خدا خلوص نیت کے باوجود
کتنا مشکل ہے دلوں پر حکومت کرنا
جس سفر میں نہ ہو تو میرا ہمسفر
کتنا مشکل ہے ایسی مسافت کرنا
جس درخت پر ہو پیلے پتوں کا بسیرا
کتنا مشکل ہے اس کی خفاظت کرنا
یہ دنیا اور اس کی فرسودہ روایات
کتنا مشکل ہے ان کو ملامت کرنا
کس قدر مصائب جھیلے ہیں میں نے
کتنا مشکل ہے تم سے شکایت کرنا
یہ تعظیم محبت کیسی ہے سحر
کتنا مشکل ہے تم سے وضاحت کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






