احساس دوستی سے طرف دار ڈر گئے
Poet: Zaigham jaffery [email protected] By: zaigham jaffery, Daskaاحساس دوستی سے طرف دار ڈر گئے
جن پر بڑا یقین تھا غم خوار ڈر گئے
کتنے تصورات ہوا کی نظر ہوئے
بے ہوش کیا ہوئے ہیں کہ میخوارڈر گئے
سرجوڑکر گھٹائیں فلک پر جو آگئیں
پھر بارشوں کے سارے طلب گار ڈر گئے
آئی نہیں قمر کی ستاروں میں روشنی
ظلمات دیکھ سحر کے انوار ڈر گئے
کچھ پھول تو جھکے ہیں خزاوں کے سامنے
کچھ کر کے ان خزاوں سے انکار ڈر گئے
ان کو جنون عشق سے کچھ واسطہ نہیں
جو دیکھ کر غرور کی تلوار ڈر گئے
نام خزاں ہوا میں جو لکھنا شروع کیا
میں نے پلٹ کے دیکھا تو گلزارڈر گئے
ہے جعفری عجیب یہ قصہ وہ دیکھ کر
حدِجنون اور مِرا پیار ڈر گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






