احساس کی نظر سے تجھ کو چرا کے لاؤں
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadاحساس کی نظر سے تجھ کو چرا کے لاؤں
امبر سے چاندنی کی اک شال جا کے لاؤں
بارات جگنوؤں کی ہو رات خوشبوؤں کی
ہو سیج دل کی تجھ کو دلہن بنا کے لاؤں
ہاں جو ملول دل کو مسرور کر کے رکھ دیں
تیرے لئے کچھ ایسی شامیں سجا کے لاؤں
خوشیاں خوشی سے تجھ کو صدیاں بھی دان کر دیں
مٹھی میں چند لمحے ایسے چھپا کے لاؤں
رم جھم سی کوئی ساعت مل جے گر تجھے بھی
اپنی محبّتوں کے موسم دکھا کے لاؤں
گجرے میں تیرے بھر دوں تتلی کے رنگ سارے
قوس قزح سے تیرا گھونگٹ بنا کے لاؤں
رکھنا ہے پاس شاہی نے اپنے نام کا بھی
نینوں کی پالکی میں تجھ کو بٹھا کے لاؤں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






