احساس
Poet: Kunwar Daniyal Moin By: Kunwar Daniyal Moin, Karachiاحساس جوتھے بس تمہارے لئے
کی جو میں نے وہ محبت جھوٹی نہیں
جن راستوں پہ ہم تم چلے ساتھ تھے
آج بھی وہ مجھ سے چھوٹے نہیں
چاند بھی ویساہی ہے اپنے افق پہ
بس تو میری یادوں سے بھولا نہیں
خوابوں میں تیراہی تصّورہوتا ہرشب
انتظارتیراہی پرحقیت میں توآتانہیں
فرصت یا مصروفیات ہو ں میری وہی
بس تو ،تری یاد اور کچھ دل سوچتا نہیں
دھڑکنوں کی سداؤں میں تو ہی تھابسا
پکارے دل ہر دم تجھے پھربھی سنتانہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






