اداسی کے دن گئے
Poet: SUNDER KHAN By: SUNDER KHAN, KSAدیکھا جو حسن یار تو اداسی کے دن گئے
چھایا آنکھوں میں خمار تو اداسی کے دن گئے
اسکے سحر کی رنگینیاں چھائیں تھیں ہر طرف
یوں بڑھتا گیا غبار تو اداسی کے دن گئے
سمٹتا رھا وہ حسن فضاؤں میں اس طرح
کہ چہرے پہ آئی بہار تو اداسی کے دن گئے
دھندلا گیا ھے آئینہ کہ تھا عکس میں غرور
ھوا عشق کا کاروبار تو اداسی کے دن گئے
تھے شام کی خموشی میں چھپے ملن کے سرور
پھر رات ھوئی جو بیدار تو اداسی کے دن گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






