ادراک
Poet: Muhammad Awais Dossi By: Muhammad Awais dossi, Lahoreمحبت تمہیں بھی ہے مجھ سے
ٹٹولو کبھی دل کو اپنے, تو جان جاؤ گے
جانے کیوں تم خود سے ہی چھپاتے ہو محبت میری
جانے کس خوف نے گھیرا ہے تم کو
اپنے ہی اندر نہیں جھانکنے دیتا ہے جو تم کو
اس بے سبب خوف سے جب جاناں
جان چھوڑاو گے تو جان جاؤ گے
کبھی خشک پتوں پے بے ربط چلتے ہوئے
ہاتھوں پے جب اپنے
لمس کوئی محسوس کرو گے
تو جان جاؤ گے
یوں ہی جب کوئی تم سے
بے توکے سوال پوچھے گا جاناں
میں تمہارے ہونٹوں پے تب مسکراؤں گا
تو جان جاؤ گے
بے نیازی سے جو پھینکو گے ٹِشو
یا ٹوٹے بال جب اپنے سمیٹو گے
روک جاؤ گے اک لمحے کے لیے
کچھ جب من میں سوچو گے
تو جاناں جان جاؤ گے
تمہاری نظروں سے دور ہو جاؤں گا
روک نہ پاؤ گے جب تم مجھ کو
تمہاری آنکھوں سے پانی بن کر نکلوں گا
تو جان جاؤ گے.....
تم کہتے ہو کہ عاری ہو اب سب جذبات سے
گزر چکے ہو ان سب معاملات سے
مگر جب بھی کوئی تمہیں "سوہنا" کہ کے بلائے گا
جب بھی پاؤں تمہارے کوئی سہلاے گا
تُو جان جاؤ گے
جانتا ہوں نہیں ابھارتے جذبات تمہارے
الفاظ میرے.....
پر جب یہ سب الفاظ کہیں کھو جائیں گے
تلاشتے رہو گے انکو جب اپنی یادوں میں
تو جان جاؤ گے......
جب بھی اپنی وفا کے سراب سے
نکلو گے جاناں، تب ہم نہیں ہوں گے مگر
تم جان جاؤ گے...محبت تمہیں بھی ہے مجھ سے!
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






