ادھر لائو ،قلم مجھ کو دو
Poet: Syed Fahad Altaf Ahmad By: Syed Fahad Altaf Ahmad, Kahror Pacaa Multanادھر لائو ،قلم مجھ کو دو
کچھ کرو بندو بست،کچھ ورق مجھ کو دو
روشنائی بھی نہیں سیاہی بھی تو کیا
خون حاضر ہے میرا ، بس لکھنے کچھ مجھ کو دو
برباد تو ہو ہی گیا ہوں میں
تو کچھ پل کرنے ماتم مجھ کو دو
یار گیا،دلدار گیا، گیا پیار بھی
بچا میں ہوں بس جانے مجھ کو دو
لگایا تھا دل کسی بے وفا سے
ٹوٹنا تو تھا ہی ، ٹوٹنے مجھ کو دو
آیا تھا زندگی میں کسی طوفاں کی طرح
تھمنا تو تھا ہی ، باقی بکھرنے مجھ کو دو
آ کے بسا دی زندگانی میری اس نے
بعد اس کے ہونی تو تھی ویرانی
اسی میں سسکنے اب مجھ کو دو
خواب دکھائے کیا کیا اس نے ، دکھائے تو توڑے بھی اس نے
نہ شکایت کرنے اب مجھ کو دو
جینے کی تھی تمنا ،سکھا دیا اس نے احمد جینا
بن اسکے، بن اپنے ، بن سپنے جینے اب مجھ کو دو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






