ارے میرے ساقی یہ کیا کر رہے ہو؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنگاہوں سے مستی کو وا کر رہے ہو
ارے میرے ساقی یہ کیا کر رہے ہو
نہیں جی بہلتا جو تیرا،نہ بہلے
مجھے کیوں قفس سے رہا کر رہے ہو
میرے آنسوؤں سے یہ پوچھا کلی نے
یہ تم قرض کس کا ادا کر رہے ہو
ابھی تک وہی لا ابالی ہو تم بھی
غم دل کو دل دے جدا کر رہے ہو
کس آنے والے سمے سے ڈرا کر
گھڑی پل کا جینا سزا کر رہے ہو
ہے کچے مکانوں پہ جو خستہ حالی
تو کیوں بارشوں کی دعا کر رہے ہو
ابھی دل رقیبوں کے چلا اٹھیں گے
جو اظہار یوں برملا کر رہے ہو
جگر تھامتا ہوں تو دل چیختا ہے
یہ کس درد کی تم دوا کر رہے ہو
چرا کر مری ذات کے سب معانی
مجھے حرف سے آشنا کر رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






