ارے میرے ساقی یہ کیا کر رہے ہو؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillنگاہوں سے مستی کو وا کر رہے ہو
ارے میرے ساقی یہ کیا کر رہے ہو
نہیں جی بہلتا جو تیرا نہ بہلے
مجھے کیوں قفس سے رہا کر رہے ہو
میرے آنسوؤں سے یہ پوچھا کلی نے
یہ تم قرض کس کا ادا کر رہے ہو
ابھی تک وہی لاابالی ہو تم بھی
غم دل کو دل سے جدا کر رہے ہو
کسی آنیوالے سمے سے ڈرا کر
گھڑی پل کا جینا سزا کر رہے ہو
ہے کچے مکانوں پہ جو خستہ حالی
تو کیوں بارشوں کی دعا کر رہے ہو
ابھی دل رقیبوں کے چلا اٹھیں گے
جو اظہار یوں برملا کر رہے ہو
جگر تھامتا ہوں تو دل چیختا ہے
یہ کس درد کی تم دوا کر رہے ہو
چرا کر مری ذات کے سب معانی
مجھے حرف سے آشنا کر رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






