ازل سے وہم ہے کیسا عجیب لوگوں کو
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiازل سے وہم ہے کیسا عجیب لوگوں کو
کہ پیار ملتا ہے بس خوشنصیب لوگوں کو
تو میرے بازو پہ سر رکھ کے یار سویا کر
جلائیں ہم بھی تو کچھ کچھ رقیب لوگوں کو
ستم گری کے سبھی گر تمھیں سکھا دیں گے
نہ آنے دینا کبھی بھی قریب لوگوں کو
مرض کہیں بھی کسی کی بھی جاں نہیں لیتا
یہ مار دیتے ہیں اکثر طبیب لوگوں کو
بھلا میں ان کو جو ٹوکوں تو ٹوکوں کس منہہ سے
کہ خود سے ملنے جو جاۓ حبیب لوگوں کو
شعور کیسے زمانے میں آۓ گا باقرؔ
کہ نفرتیں جو سکھائیں خطبیب لوگوں کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






