استغراق و محویت رقص و وجد و ہال نہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreاستغراق و محویت رقص و وجد و ہال نہیں
بزمِ زاہد میں، مے خانے جیسا جمال نہیں
جسم و جاں میں آتش بھر دے دل کو بسمل کر دے
ناصح تیری باتوں میں ایسا بھی اوج و کمال نہیں
ناپختہ عشاق عبث قسمت کو روتے رہتے ہیں
ہائے اپنی قسمت میں ہجر تو ہے وصال نہیں
جَز کا کَل میں گَم ہو جانا عشقِ صادق ہوتا ہے
اوجِ عشقِ صادق وہ ہے جِسے کبھی زوال نہیں
خارجی صدموں کے آگے سینہ سپر رہنے والی
پاکیزہ روح سے بہتر کوئی بدن کی ڈھال نہیں
خلقِ خَدا کی خدمت میں خالق راضی خلقت خوش
آزمایا ہوا گَر ہے یہ کوئی خود ساختہ چال نہیں
دِل گرِفتہ ہونے سے عظمٰی یہ بچائے رکھتی ہے
مثبت سوچ کی عادت ہے بس میرا کوئی کمال نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






