اسکی گلی میں داد وفا ڈھونڈ رہا ہوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillاسکی گلی میں داد وفا ڈھونڈ رہا ہوں
نادان ہوں پتھر میں خدا ڈھونڈ رہا ہوں
ہر سمت نظر آتی ہے لو کی آوارگی
خوشبو سے بھری تازہ ہوا ڈھونڈ رہا ہوں
ہاتھوں کی لکیروں میں سر راہ بہاراں
میں کھوئی ہوئی اپنی دعا ڈھونڈ رہا ہوں
تعبیر لے اڑی ہے تمنا کی لذتیں
لوہ جنوں پہ خواب نیا ڈھونڈ رہا ہوں
صحرا کی وحشتوں میں کبھی نوک تیر پر
کس کس جگہ میں اپنی خطاڈھونڈ رہا ہوں
ہاں میں نے جائے ہیں دئیے شوق وفا کے
یونہی تو نہیں تلخ سزا ڈھونڈ رہا ہوں
وہ کب کا اپنی راہ بدل کر چلا گیا
نقش قدم پہ کس کے انا ڈھونڈ رہا ہوں
ہاتھوں کی کٹی انگلیاں کب پیش نظر ہیں
دامن پہ زلیخا کا گلہ ڈھونڈ رہا ہوں
اشعار کے دریا میں کبھی ڈوب کے دیکھو
شاید تیری خاموش ندا ڈھونڈ رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






