اسی آگ میں
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadاسی آگ میں مجھے جھونک دو
وہی آگ جس نے بلایا تھا
مجھے ایک دن
دمِ شعلگی
دمِ شعلگی میرا انتظار کیا بہت
کئی خشک لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں
جہاں برگ و بار کا ڈھیر تھا
دمِ شعلگی
مجھے ایک پتے نے یہ کہا تھا گھمنڈ سے
ادھر آ کے دیکھ کھ اس تپیدہ خمار میں
ہمیں ہم ہیں
لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں
یہاں اور کون وجود ہے
ہمیں ہم ہیں یہاں رکے ہوئے
کہیں آدھے
اور کہیں پورے پورے جلے ہوئے
دمِ شعلگی ہمیں جو مسرتِ رقص تھی
تمہیں کیا خبر
اگر آگ تم کو عزیز تھی
تو یہ جسم کونسی چیز تھی
جسے تم کبھی نہ جلا سکے
وہ جو راز تھاپسِ شعلگی نہیں پا سکے
سو کہا تھا میں نے یہ ایک ادھ جلے برگ سے
مجھے دکھ بہت ہے کہ آگ نے
میرا انتظار کیا بہت
مگر ان دنوں کسی اور طرز کی آگ میں
میرا جسم جلنے کی آرزو میں اسیر تھا
مگر ان دنوں میں نہ جل سکا
میں نہ جون اپنی بدل سکا
مگر اب وہ آگ کہ جس میں
تم نے پناہ لی
جہاں تم جلے
جہاں تم کھلے
جہاں تم عجیب سی لذتوں سے گلے ملے
اسی آگ میں مجھے جھونک دو
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے







