بےبسی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaشب بھر کسی کی
یاد نے مجھے
سونے نہیں دیا
وہ بولا ہی اتنے
دہبے لہجے میں کہ
ُاس کی بےبسی نے
میری آنکھوں کو
خشک ہونے نہیں دیا
جس نے کبھی
سنجدگئی سے اقرار
تک نا کیا تھا
آج ُاسی شخص نے
دوران گفتگو
ہنسی کو اپنے لب
پے آنے نہیں دیا
یوں تو رو رہی تھی
آنکھیں ُاس کی پر
ُاس نے اپنے اشکوں
کو مجھ پر
ظاہر ہونے نہیں دیا
کانٹوں میں ڈھونڈ رہا تھا
گلاب میرے لیے
پر ایک بھی کانٹے کو
ُاس نے میری طرف
آنے نہیں دیا
تنہایوں کے موسم
میں محفلیں
دیتا رہا مجھے
کتنا عجیب ہیں
وہ شخص جس نے
میری زندگی کو
کبھی ُاداس ہونے نہیں دیا
چاہا مجھے ُتو
چاہیتوں کی حد کر دی
دیوانہ سا ہے وہ
جس نے پھر مجھے
کسی اور کا
ہونے نہیں دیا
بن گیا ہیں اس قدر
میری دعاؤں کی زنیت وہ
کہ ُاس کے سوایا
میری دعاؤں نے
خود میں کسی اور کا
نام آنے نہیں دیا
میرے شعروں میں
سماء گیا ہیں اس قدر
کہ پھران میں
کسی اور کا
ذکر ہونے نہیں دیا
پر دنیا نے مجبور کر دیا
ُاس شخص کو اتنا
کہ مجھ سے خفاء ہوا
تو پھر مجھے اپنے
خوابوں میں بھی
آنے نہیں دیا
چاہتا تو ہیں
اب بھی مجھے
پر اب ُاس نے
اپنے لبوں پے بھی
اقراریں وفا کوآنے نہیں دیا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






