اسی نگر کی اک چڑیا ہے
Poet: By: maria rehmani, Kharianسہمی سہمی رہتی ہے
چاہتوں کے دیس میں
نفرتوں ک بھیس میں
وہ اڑ نہیں سکتی
ایسا لوگ کہتے ہیں
مگر
لوگ کیونکر جانیں گےچاہتوں کے دیس میں
نفرتوں کے بھیس میں
کیوں وہ لپٹی رہتی ہے
دور فلک تک اڑنے کا جو شوق تھا
کہیں حادثوں میں ہی کٹ گیا
محبتوں بھا جو آشیاں تھا
کہیں حادثوں کی زد میں بہ گیا
وہ زندگی جو اس نے جینا تھی
کسی ایک پل میں ہی کٹ گئی
جو شوق تھا اس کا اڑنے کا
کہیں دور آسمان میں ہی کھو گیا
ورنہ
وہ اسی نگر کی چڑیا تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







