اسی کی خاطر جیتے ہیں اسی پہ مرتے ہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamاسے کیا خبر کہ ہم اسے کتنا پیار کرتے ہیں
اسی کی خاطر جیتے ہیں اسی پہ مرتےہیں
وہ بام سے ہمیں نظروں سے سلام کرتےہیں
ہم جب بھی ان کی گلی سے گزرتے ہیں
میری محبت میں وہ کہیں رسوا نہ ہو جائے
ہم اس کا نام لبوں پہ لانے سے ڈرتے ہیں
شمع کی دوری میں پروانے کا یہ حال ہے
راتوں کوکسی چراغ کی صورت جلتے ہیں
ایک ہم ہی نہیں جوآہیں بھرتےہیں سناہے
وہ بھی جل بن مچھلی کی طرح تڑپتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






