اسے مجھ سے محبت تھی یا یہ میرا وہم تھا
Poet: sarwat anmol By: sarwat anmol, Karachiاسے مجھ سے محبت تھی یا یہ میرا وہم تھا
نگاہیں جھکا کرملنا شاید اسکا انداز تھا
رسما بھی وہ مجھ سےسلام دعا کرتا نہ تھا
مگر نجانے کیسے میری ہر بات جان لیتا تھا
میں چونک اٹھتی وہ ہڑبڑا جاتا تھا
میں تکتی اسے وہ نظریں چرا لیا کرتا تھا
میں اقرار چاہتی تھی وہ انکار کرتا تھا
اسےضدتھی مجھےجھکانےکی خودانامیں رہتاتھا
جب سے وہ مجھ سے بچھڑا تھا
بظاہر وہ ہسنتا مگر اسکا بھی روتا تھا
اسے مجھ سے محبت تھی یہ سچ تھا انمول
اسکی آنکھوں میں ڈوبا پانی مجھ سےکہتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






