اس الزامات کی بوچھاڑ سے تو مجھے آزاد کر
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiاس الزامات کی بوچھاڑ سے
تو مجھے آزاد کر شفق
میرا کوئی قصور نہیں
مجھے تجھ میں کوئی چاہ نہیں
تجھے مجھ سے کوئی چاہ نہیں
نا میں تیری
نا تو میرا
بس
ایک سوچ عقل سے پھسل گئی شفق
مجھے یاد تھی کے بدل گئی
اک سوچ میں گم ہوں تیری دیوار سے لگ کر شفق
میرے دل کے ٹکڑے تیری وقت
گزاری تھی
میری زندگی کا سوال تھا
تو میرا نہیں نا سہی
تجھے تیری زندگی مبارک
تجھے تیری نئی محبت مبارک
مجھے آزاد کر خود کی یادوں سے
مجھے آزاد کر خود کے جھوٹے وعدوں سے
میرا تیرے سوا کوئی نہیں
تو میرا ہمدم تو میرا ہمدرد تو ہی میرا ہمسفر
مجھے اٹھا اس نیند سے مجھے
مجھے بتا میرے دل کے ٹکڑے تو میرا نہیں
یہ تیری وقت گزاری تھی
وہ جو تو نے دیکھائے
وہ جھوٹے وعدے تھے
تیری وقت گزاری کے لئے مجھے بتا
اور مجھے آزاد کر
مجھے معاف کر
اس الزامات کی بوچھاڑ سے تو مجھے آزاد کر شفق
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






