اس بار بہار کے موسم میں دو پھول کھلے تھےآنگن میں
Poet: m,masood By: m,masood, nottinghamاس بار بہار کے موسم میں
دو پھول کھلے تھےآنگن میں
ایک ٹوٹ گیا ایک مرجھایا
اس بار بہار کے موسم میں
کچھ لوگ میرے ہمراہ چلے
کچھ چھوڑ گۓ کچھ توڑ گۓ
مہمان تو جانا تھے آخر
کچھ اپنے بھی منہ موڑ گۓ
کیوں غم سے رشتہ جوڑ گۓ
اس بار بہار کے موسم میں
اس بار بہار کے موسم میں
اے کاش کہ ایسا ہو جاۓ
کوئ کونپل پھوٹے کھل جاۓ
جو وقت نے چھین لیا مجھ سے
وہ لمحہ پھر سے واپس مل جاۓ
اس دل کا زخم بھی سل جاۓ
اس بار بہار کے موسم میں
اس بار بہار کے موسم میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






