اس حسن پہ کچھ صدقہ و خیرات کیجئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillناراضگی رکھئے یا التفات کیجئے
جو کچھ بھی کیجئے وہ مرے ساتھ کیجئے
دی ہے تمہارے حسن نے پھولوں کو دلکشی
اس دل کے ساتھ بھی ذرا دو ہاتھ کیجئے
اب دیکھئے نظروں کا نہیں کوئی بھروسہ
اس حسن پہ کچھ صدقہ و خیرات کیجئے
اے جان حسیں جیت تمہیں دیکھ رہی ہے
برپا مرے وجود پہ اب مات کیجئے
بھر ڈالئے اب روح میں طوفان تمنا
یوں تذکرہ ء گرش حالات کیجئے
مدت ہوئی ہے وجد میں صحرا نہیں دیکھا
اے عشق عیاں اپنی کرامات کیجئے
شاید یہیں سے پھوٹ پڑے ذوق کا زم زم
بہتے ہوئے لہو پہ تجربات کیجئے
ہنگامہ ہائے شوق صنم ناگزیر ہے
چپ کاٹنے لگی ہے کوئی بات کیجئے
میں ڈھونڈنے چلا ہوں گئے وقت کے مہتاب
ہمراہ مرے تاروں کی بارات کیجئے
پنہاں ہے اسی زلف شکن دار میں عالم
میں جینا چاہتا ہوں ابھی رات کیجئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






