اس حسیں عہد کی تجدید کا حق دے مجھکو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہر صبح اک سہانی عید کا حق دے مجھکو
گم دریچوں سے اپنی دید کا حق دے مجھکو
میں تیری ذات کی تکمیل تک میں شامل ہوں
تو اپنی ذات پہ تنقید کا حق دے مجھکو
میں جانتا ہوں کہ منزل میرا نصیب نہیں
بس ذرا شوق کی تمہید کا حق دے مجھکو
آج بھی جسکی حرارت سے مچلتا ہے جنوں
اس حسیں عہد کی تجدید کا حق دے مجھکو
میں حقیقت سے نگاہیں نہیں چرا سکتا
آئینہ خانوں کی تائید کا حق دے مجھکو
لوٹ آنا بھی تو دنیا ہی کی روایت ہے
ہاں تو پھر دائمی امید کا حق دے مجھکو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






