اس دشتِ لا مکان پہ بادل اتر گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیااس دشتِ لا مکان پہ بادل اتر گیا
میرے چمن کی سرخی و نکہت نکھر گیا
میں بھی اسی کی راہ پہ چل دوں گی ایک دن
پھیلا ہوا جو چار سو خوشبو میں بھر گیا
وہ درد جو کہ روح کو رکھتا ہے مضطرب
وہ میری اس حیات کو کیسے سنور گیا
یہ بے رخی ہے ، ہجر ہے یا ہے ادائے ناز
یہ سلسلے ہیں پیار کے سب کا اثر گیا
اس زندگی کو پھر سے ضرورت ہے پیار کی
اس کی محبتوں کا صنم پھر مکر گیا
میں سنگِ آستاں ہوں تو میرا خیال کر
اپنی انا کو میرے ہی قدموں میں مر گیا
مایوسیوں کی گود میں دم توڑ دوں گی میں
وشمہ وفا کا حوصلہ پھرسے کدھر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






