اس دنیا کو غیر کی نظر سے تجھے بس اپنا دیکھوں.
Poet: Maria riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadاب جانی میں جینے کی ادا دیکھوں
تیری شہرت ہر طرف برپا دیکھوں
چاند تو تنہاہ ہے اذال سے میں چاند نہیں
میں تو تیرے سنگ جینے کا سپنا دیکھوں
اک اک کرکے ساری سکھیاں مجھے چھوڑ گئی
اس دنیا کو غیر کی نظر سے تجھے بس اپنا دیکھوں
تیرے چھو نے سے میں گر صندل ہو جاؤں
میں خزاں میں بھی اپنا آپ صدا کھلا دیکھوں
شام بھی آگئی ہے رات بھی سج گئی ہے
بتا میرے ہمنشیں کب تک تیرے وصل کا رستا دیکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






