اس سے کہہ دینا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiبہت ہی دور منزل سے
لہروں پر قدم رکھ کر
اے ساحلو تم سے آ ملے وہ شخص
تو اس سے کہہ دینا تم
کوئی اداس رہتا ہے
بڑا بےچین پھرتا ہے
اس سے کہہ دینا کہ
اسکی یاد آتی ہے
ہمیں اکثر رلاتی ہے
اس سے کہہ دینا کہ
جب بھی وقت ملے اسکو
اپنوں کی یاد آئے جب
پلٹ کر آ جائے وہ
سمٹ کر آ جائے وہ
کسی اپنے کی نگری میں
جسے وہ چھوڑ گیا تھا
جسے وہ بھول گیا تھا
وہ نگری آج بھی جاناں
کسی کی راہ تکتی ہے
کسی کو بلاتی ہے
وہ جو اس نگری کا باسی تھا
وہ جو زندگی کا ساتھی تھا
اس سے کہہ دینا کہ
کوئی تم کو بلاتا ہے
اس سے کہہ دینا کہ
کوئی تم بن ادھورا ہے
اس سے کہہ دینا کہ
کوئی تم بن ادھورا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






