اس طرح خود کو محبت کی سزا دیتی ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ROMANIAاس طرح خود کو محبت کی سزا دیتی ہوں
نام لکھتی ہوں ترا، لکھ کے مٹا دیتی ہوں
نام لیتے نہیں رکنے کا یہ آنسو میرے
تب تیرے نام کی محفل میں سجا دیتی ہوں
یہ الگ بات کہ تجھ تک نہیں پہنچی لیکن
میں کئی بار تجھے دل سے صدا دیتی ہوں
بس اسی سوچ میں بیٹھی ہوں کہ تُو آئیگا
روز دہلیز پہ پلکیں میں بچھا دیتی ہوں
فلسفہ کیا ہے محبت کا یہ جانا جب سے
تب سے پتھر کو بھی میں ہیرا بنا دیتی ہوں
پوچھتے رہتے ہیں مجھ سے سب ارباب سخن
کس طرح غم کو تبسم میں چھپا دیتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






