اس طرح دل پہ کوئی اثر کردے
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, Rawalpindiاس طرح دل پہ کوئی اثر کر دے
جیسے اک جادو کوئی جادوگر کر دے
کہکشاں چاند ستارے اے حسین قوس قزح
اتر کر اک بار تاج محل میرا گھر کر دے
دل تو پاگل ہے دیوانہ ہے کچھ سمجھتا نہیں
اس کا کوئی چارہ اے میرے چارہ گر کر دے
اس کی آنکھوں میں گرتے ہیں سمندر کتنے
مجھ کو بھی میرے خدایا کوئی سمندر کر دے
اس سے پہلے کہ وہی لمحہ مجھے چھین لے تم سے
مجھ پہ جلدی سے الفت کی کوئی نظر کر دے
اب وہ جذبات میں پہلے سی گرمی کہاں
آکے چپکے سے پھر تازہ خون جگر کر دے
اس سے پہلے کہ میں کھو جاؤں تاریک اندھیروں میں
تو ہو کر طلوع میری ہر شام سحر کر دے
سبھی انسان ہو جائیں پیروکار اس کے اشتیاق
عشق مذہب ہے وہ دعویٰ اگر کر دے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






