اس نے اب طرز یہ روا رکھا
Poet: arshiya hashmi By: arshiya hashmi, islam abadاس نے اب طرز یہ روا رکھا
نہ تو چھوڑا نہ واسطہ رکھا
یوں تو کہنے کو ھو گیا مرا
درمیاں اک فاصلہ رکھا
ایک ھی داستاں محبت کی
جس نے صدیوں تلک نشاں رکھا
آج کیوں تنگ کر رہا ھے زمیں۔۔۔؟
جس نے سر پہ تھا آسماں رکھا
ایک ہی شخص نے بغاوت کی
دل نے کیوں شور ھ مچا رکھا۔۔۔؟
عرشی تجھ سے ہوئی خطا کیا ہے۔۔۔۔؟؟
سوچ کیوں اس نے یوں جدا رکھا۔۔۔؟؟؟؟؛
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







