اس کو معلوم بھی نہ تھا کہ عمر گنوا دی ہم نے
Poet: Ijaz Ahmed By: ijaz ahmed, Faisalabad (Dijkot)اس کو معلوم بھی نہ تھا کہ عمر گنوا دی ہم نے
یاد کی راہوں پہ چل کر جاں لٹا دی ہم نے
اس کی ہستی کے تصور نے ہمیں زندہ رکھا
ورنہ غم کی تپش میں دنیا بھلا دی ہم نے
وصل کے خواب سجائے دل کو بہلایا بہت
ہجر کے لمحوں میں لیکن آگ جلا دی ہم نے
چاہتوں کا جو دیا تھا وہ بجھایا کس نے
آخری سانس تلک اس کو ہوا دی ہم نے
اس کے لہجے میں تھا جادو، تھی صدا میں خوشبو
ایک پل سن کے صدیوں کی پیاس بجھا دی ہم نے
ہجر کے زخم چھپائے ہیں وفا کی خاطر
دل کے کاغذ پہ فقط خون سجا دی ہم نے
لوگ کہتے ہیں وفا کا کوئی حاصل ہی نہیں
پھر بھی دنیا سے الگ راہ بنا دی ہم نے
اب غنیمت ہے کہ دل درد کا عادی نکلا
ورنہ تنہائی میں کیسی آگ لگا دی ہم نے
خواب کی دھند میں الجھے رہے عمر بھر اعجازؔ
ایک تصویر کی خاطر خود کی ذات مٹا دی ہم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






