اس کی ادائے ناز مرے دل کو بھا گئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, romaniaاس کی ادائے ناز مرے دل کو بھا گئی
اس کی صدا عجیب سا جادو جگا گئی
مجھ کو تہماری یاد کے لمحوں نے ڈس لیا
دل کو تمہاری یاد بھی بوجھل بنا گئی
دھڑکن پہ اختیار کہاں رہ گیا مجھے
جب سے تمہاری شکل نظر میں سما گئی
سب کچھ تو کھو چکے تھے رہ زندگی میں ہم
بس اک انا بچی تھی جسے وہ گرا گئی
گلشن میں ہر طرف ہے قیامت مچی ہوئی
توڑا گلاب ہم نے اُسے لے صبا گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






