اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiدل کے ویرانے سے اکثر یہ ندا آتی ہے
پوچھ اس سے کہ مری یاد بتا آتی ہے
ساری محفل کو وہ مسحور بنا جاتی ہے
اس کے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
کل جو کہتے تھے مری آنکھ کا کاجل تم ہو
ان کو اب آنکھ ملانے سے حیا آتی ہے
چین لینے نہیں دیتے مجھے وہ بیتے دن
یاد آتے ہیں تو اشکوں کی ردا آتی ہے
مل گیا کوئی تمہیں ساتھ نبھانے والا
تم رہو شاد یہی لب پہ دعا آتی ہے
میری لیلی سے ملا دو مجھے کوئی یارو
مجھ کو صحرا سے یہ مجنوں کی ندا آتی ہے
ایک ہی شخص کو دل میں بسایا ہم نے
ہم کو اس نام سے اب بوئے جفا آتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






