اشاروں بہاروں نظاروں نے پوچھا۔۔۔
Poet: UA By: UA, Lahoreبہاروں نظاروں اشاروں نے پوچھا
کناروں سہاروں دیواروں نے پوچھا
کئی بار مجھ سے بہاروں نے پوچھا
کئی بار مجھ سے نظاروں نے پوچھا
کہ تو کیوں بہاروں سے روٹھا رہے
کہ تو کیوں نظاروں سے روٹھا رہے
کئی بار مجھ سے اشاروں نے پوچھا
کئی بار مجھ سے کناروں نے پوچھا
کہ تو کیوں اشاروں سے نالاں رہے
کہ تو کیوں کناروں سے نالاں رہے
کئی بار مجھ سے سہاروں نے پوچھا
کئی بار مجھ سے دیواروں نے پوچھا
کہ تو کیوں سہاروں سے خائف رہے
کہ تو کیوں دیواروں سے خائف رہے
بہاروں سے تجھ کو شکایت ہے کیا
نظاروں سے تجھ کو شکایت ہے کیا
اشاروں سے تجھ کو عداوت ہے کیا
کناروں سے تجھ کو عداوت ہے کیا
سہاروں سے تجھ کو گلہ کیوں رہے
دیواروں سے تجھ کو گلہ کیوں رہے
بیاں میں میرے وہ فصاحت نہیں
سخن میں میرے وہ بلاغت نہیں
کہ ان سب کے دل کی تسلی کرو
میرے پاس کوئی وضاحت نہیں
کچھ بھی یہ مجھ سے ساروں نے پوچھا
بیاں سے کبھی تو اشاروں سے پوچھا
بہاروں نظاروں اشاروں نے پوچھا
کناروں سہاروں دیواروں نے پوچھا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






