اشکوں سے کر بھی لوں میں اگر آنکھ نم یہاں
Poet: AzharM By: AzharM, Dohaاشکوں سے کر بھی لوں میں اگر آنکھ نم یہاں
یہ سنگ دل کبھی نہ کریں گے کرم یہاں
مقتل بنا ہوا ہے، تُو اے شہر آرزو
کس کو خبر ہوئی تری، کس کو ہے غم یہاں
خوں آرزو کا میری نہ لایا کوئی بھی رنگ
آواز کس کو آئی، جو ٹوٹا بھرم یہاں
لقمہ غریب کا ہو تو بھاری ہے جیب پر
مہنگے نہیں ہزار میں شیشے کے دم یہاں
الجھا ہوا ہے اپنے ہی گھربار میں ہر ایک
سلجھانے کون آئے گا زلفوں کے خم یہاں
اظہر تو قافلے سے الگ کیوں ہے چل رہا
تجھ کو خدا کا واسطہ، روکو قدم یہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






