اشک بیتاب تھا رخسار پہ آنے کے لیے
Poet: عمیر قریشی By: عمیر قریشی, اسلام آباداک تعلق کو بکھرنے سے بچانے کے لیے
میں نے ہر رنج سہا یار منانے کے لیے
حالِ دل دیدہء پرنم سے سنانے کے لیے
اشک بیتاب تھا رخسار پہ آنے کے لیے
وہ کبھی چھو کے سراپا مرا خوشبو کر دے
وہ کبھی آنچ دے فرقت کی جلانے کے لیے
ٹوٹ جائے نہ کہیں میری وفا کا بندھن
ایسے روٹھا نہ کرو مجھ سے زمانے کے لیے
آ کسی روز مرا ہجر مکمل کر دے
آ مرے ضبط کی دیوار گرانے کے لیے
ہجر کی دھوپ میں مرجھا گئے خواہش کے گلاب
نامرادی ہے بچی دل میں اگانے کے لیے
کوزہ گر ٹوٹ گیا ہوں مجھے یکجا کردے
ایک پیکر تو ہو دنیا کو دکھانے کے لیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







