اشک در اشک وحی لوگ رواں ملتے ہیں
Poet: تری پراری By: یاسر, Islamabadاشک در اشک وحی لوگ رواں ملتے ہیں
خواب کی ریت پہ جن جن کے نشاں ملتے ہیں
میرے دیوان کے ماتھے پہ یہ کس نے لکھا
خون میں بھیگے ورق سارے یہاں ملتے ہیں
میں نے اک شخص سے اک بار یوں ہی پوچھا تھا
آپ کی طرح حسیں لوگ کہاں ملتے ہیں
ایک مدت سے اسے لوگ افق کہتے ہیں
ایک مدت سے کئی دریا جہاں ملتے ہیں
جن نگاہوں میں محبت کے مکیں ہوتے ہیں
ان نگاہوں میں ہی خوشبو کے مکاں ملتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






