اضطراب
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, umtata RSAتم ہی کہو
کس سے ملیں
کس سے نہ ملنے کی باتیں کریں
سوچیں بہاروں کو
بیٹھے خزاؤں میں
اور دور بھی ہوں تو آہیں بھریں
ملنے ملانے کی خواہش کریں
اتنا ہنسیں مل کے، دنیا کے غم جتنے
اتنی کریں باتیں لمحے ہیں کم جتنے
ٹک ایک دوجے کو دیکھا کریں
اور سوچتے جائیں باتیں وہ سب
ممکن نہیں ہیں جو دنیا میں اب
رخصت کی باتوں کو رخصت کریں
یا پھر کہو تم ہی کس سے ملیں
کس سے نہ ملنے کی باتیں کریں
سوچیں بہاروں کو بیٹھے خزاؤں میں
اور دور بھی ہوں تو آہیں بھریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






