اظہار
Poet: By: fatima sher, kotriشام ڈھلے جب پنچھی اپنے آشیانوں کو لوٹ جائے
سورج آکاش کی اور چھپ جائے
چاند آنکھیں کھولے اور مسکائے
جگنوں پھو لوں سے اٹکھیلیاں کرے
ستارے نیلے امبر کی مانگ سجائے
باد صبا کے جھونکے خوشبو سے باتیں کرے
سمے کے اس پل مجھے اپنی بانہوں کے حصار میں لینا
میری زلفوں سے کھیلنا
میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کا جام بخشنا
اور پھر دھیرے مدھم سے لہجے میں
اپنی محبت کا اظہار کرنا
اقرار کرنا اور کہ دینا میں تمھارا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






