اغیار کا ہوا ہے طرف دار آجکل
Poet: Khalid ROOMI By: Khalid ROOMI, Rawalpindi اغیار کا ہوا ہے طرف دار آجکل
اڑتا ہے کن ہواؤں میں دلدار آجکل
ہوتی ہے گفتگو پس دیوار آجکل
دیتے ہیں نت نئے ہمیں آزار آجکل
غمزے وہ الحفیظ ، تبسم وہ الاماں !
ہے ایک قہر حسن کی سرکار آجکل
ان کی ادائے ناز قیامت کی ترجماں
یارو ! غضب ہے شوخیء گفتار آجکل
ہر ہر قدم پہ فتنے اٹھائے چلی گئی
مستی میں ہے وہ چشم فسوں کار آجکل
ہم لوگ کب کے دیر و حرم سے گزر چکے
چھوٹے نہیں ہیں سبحہ و زنار آجکل
کس کو سنائیں درد و الم کا یہ ماجرا
ملتا نہیں ہے غم کا خریدار آجکل !
کردار میں فریب، سخن مصلحت، دروغ
باقی کہاں ہے بات کا معیار آجکل
دشت جنوں میں لائی ہیں کچھ ایسے وحشتیں
بھاتے نہیں ہمیں گل و گلزار آجکل
رومی کی بات کا نہ برا آپ جانئے
رہتا ہے وہ تو خود سے بھی بیزار آجکل
اپنا یہی ہے اب تو شب و روز مشغلہ
رومی کے پڑھتے رہتے ہیں اشعار آجکل
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






