اقبال و میر و فیض
Poet: وشمہ خان وشمہ By: washma khan, Kuala Lampurاقبالؔ و میرؔ و فیض ؔکے اس آستان سے
پردیس میں بھی عشق ہے اردو زبان سے
ان راستوں نے پھر مجھے منزل کی دی نوید
کچھ ساتھ ساتھ خواب ہیں یہ مہربان سے
بکھری پڑی ہیں چار سو لفظوں کی کرچیاں
خائف ہیں اپنی زندگی کے امتحان سے
قوس و قزح کے رنگ ہیں پربت کے سامنے
اترا ہے نور پیار کا پھر آسمان سے
سب کر رہے ہیں پیار کی غلطی کو بار بار
کیوں سیکھتے نہیں ہیں مری داستان سے
اس کے نصیب میں رہیں دنیا کی رونقیں
وشمہ مجھے تو اُنس ہے کچے مکان سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






