اقبال کے شاہینوں کا انداز یاد رکھنا
Poet: UA By: UA, Lahoreاقبال کے شاہینوں کا انداز یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی آباد رکھنا
حوادث سے ڈر کر قدم روک لینا
ہوا دیکھ کر اپنا رخ موڑ لینا
شاہین کا شیوا نہیں پرواز کے دوران
طوفان جو آئے تو پرواز روک لینا
اقبال کے شاہینوں یہ بات یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی سنبھال رکھنا
تندی باد مخالف میں کتنا بھی دم کیوں نہ ہو
اپنا دم قائم رکھنا کبھی ہمت نہ چھوڑ دینا
یہی دستور ہے دنیا میں کامرانی کا
صلہ ملے گا خوشی اور شادمانی کا
امتحانوں سے نہ گھبراؤ مقدر آزماؤ
رکاوٹوں کو چیرتے ہوئے گزر جاؤ
پیہم جستجو لگن سے اور ہمت سے
ہر اک مقام سے آگے بڑھے چلے جاؤ
کسی مقام پہ ساکت نہیں کر پائے گا
تمہارا حوصلہ ہر بار کام آئے گا
یہی حیات جاوداں یہی جوانی ہے
یہی شوق جنوں پرواز ہے روانی ہے
کسی منزل کسی مقام پہ نہیں رکنا
ارادوں کی طرح نگاہ بھی بلند رکھنا
اقبال کے شاہین کا یہ شیوہ پرواز ہے
بلند سے بلند تر انداز کی پرواز ہے
اقبال کے شاہینوں کا انداز یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی آباد رکھنا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







