الجھے الجھے دھاگے دھاگے سے پڑھے تقدیر پر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاالجھے الجھے دھاگے دھاگے سے پڑھے تقدیر پر
ہوگئی ہوں ان دنوں میں تاروں کی تدبیر پر
کب بھلا دن میں نظر آتا ہے درد و غم کا نور
اہل غم کے دل سے پوچھے کوئی بے تاثیر پر
ہو بھی لوں ناراض لیکن کچھ تو مجھ کو آس ہو
رنجشیں ساری بھلا کر آئے گا تحریر پر
چھپ سکا دنیا کی نظروں سے نہ میرا عشق بھی
وہ برا کہتے ہیں مجھ کو اور میں تقدیر پر
یہ مرا احساس ہے یا جبر موسم کا اثر
اب کی رت مہکے نہیں گل پچھلے یہ تنویر پر
دشت غم میں آندھیوں کے وار سہنے کے لئے
خشک پتے اٹھ رہے ہیں آج اپنے پیر پر
روز ملتا ہےنئے حلیے سے وہ وشمہ تجھے
پھیلتا سایہ ہے جیسے اک تری تصویر پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






