الزام تم پر ایک بھی آنے نہیں دیا
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiاس کی انا نے اسےکبھی آنے نہیں دیا
میری انا نے بھی اسے بلانے نہیں دیا
ہم نے بھی سر جھکا دیا خاموش ہوگئے
اس طرح اسےہاتھ چھڑانے نہیں دیا
جن سے رہی عمر بھرہاتھ ملانے کی آرزو
اس نے کبھی ہاتھ بڑھانے نہیں دیا
اب اس قدر بھی دور نہ تھا اس کا گھر مگر
جانے کس بات نے اسے آنے نہیں دیا
ترکِ تعلقات میں ممکن تھا سب مگر
ہم نےتیرے نشاں کو مٹانے نہیں دیا
طوفان سے الجھتے رہے ہم جس کے واسطے
خود اس نے ایک چراغ جلانے نہیں دیا
میں چپ رہا روتا رہا پتھر بنا رہا
الزام تم پر ایک بھی آنے نہیں دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






