الفاظ نہیں ملتے تعریف لکھوں کیسے
Poet: Malik Hidayatullah Shad By: Malik Hidayatullah Shad, Ubaro, Sindhوہ حسن کی ملکہ ہیں الفاظ چُنوں کیسے
الفاظ نہیں ملتے تعریف لکھوں کیسے
انکھیں تو دیکھو جھیل بھی شرمندہ ہے
ان انکھوں کی شرارت پہ دل جان فرفتہ ہے
ان جھیل سی انکھوں میں کہیں ڈوب نہ جاءوں میں
ان بھٹکتی دھڑکنوں کو بیان کروں کیسے
الفاظ نہیں ملتے تعریف لکھوں کیسے
ہونٹوں کے چمکنے سے سورج بھی جلتا ہے
چاند بھی ہونٹوں کے کھلنے سے مچلتا ہے
ہلکا سا تبسم ہو تو ہوش نہیں رہتا
ارمان دل انکو اس بار کہوں کیسے
الفاظ نہیں ملتے تعریف لکھوں کیسے
ہم تصورِ جاناں میں دنیا کو بھلا بیٹھے
اس اگ کے طوفاں میں ہم خود کو جلا بیٹھے
جب یاد نہیں آتی تو چیں نہیں ملتا
دل ِ شاد تجھے اب میں سیر کروں کسے
الفاظ نہیں ملتے تعریف لکھوں کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






