الفت کے طلبگار ! ذرا دیکھ بھال کے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillگالوں پہ چھائے جاتے ہیں سائے ملال کے
الفت کے طلبگار ١ ذرا دیکھ بھال کے
کیسے کسی کی یاد کا سورج غروب ہو
کرنوں نے تھام رکھے ہیں لمحے وصال کے
جذبے کہ جن کے پیش نہ حاصل نہ ٹھکانہ
ہوتے نہیں اسیر کبھی ماہ و سال کے
پھر یوں ہوا کہ وقت سے آگے نکل گیا
پہلو میں دل کو مدتوں رکھا سنبھال کے
ممکن ہے کناروں کو تو مل جائے ذرا چین
کشتی کہاں پہ جائے گی لہروں کو ٹال کے
اے حسن بے نیاز جو بکھرے ہیں میرے گرد
اتنا بتا جواب ہیں یہ کس سوال کے
یوں بھی ہوا کہ شوق رہا سنگ چھانتا
موقع پرست لے گئے ہیرے نکال کے
اے ذوق آرزو کہاں تشنہ لبی کا غم
پھوٹے ہوئے ہیں چار سو چشمے خیال کے
ہیں اپنی دسترس میں سمے کی مہار بھی
ہم کہ فقیر لوگ ہیں کتنے کمال کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






